جاری و ساری

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - رواں، لگاتار چلنے والا۔      "وہ الفاظ کا استعمال اس لہجہ اور تلفظ میں کرنے کا عادی تھا جو عوام میں جاری و ساری تھے"     رجوع کریں:   ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٢٦٩:٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'جاری' کے بعد حرف عطف 'واؤ' لگا کر پراکرت سے ماخوذ اسم صفت 'ساری' لگانے سے مرکب عطفی 'جاری و ساری' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٩٤٧ء میں "مضامین فرحت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رواں، لگاتار چلنے والا۔      "وہ الفاظ کا استعمال اس لہجہ اور تلفظ میں کرنے کا عادی تھا جو عوام میں جاری و ساری تھے"     رجوع کریں:   ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٢٦٩:٧ )